Sunday, 14 February 2016
Agar Poochta Hai To Sun Yaar Jaani Humari Jawani Bhi Kia Thi Jawani
شاعر جان نثار اختر
بک نذر ۓ بتاں ماخوذ کلیات جان نثار اختر صفحہ 104 110
انتخاب اجڑا دل
اگر پوچھتا ہے تو سن یار جانی
ہماری جوانی بھی کیا تھی جوانی
ہنسی دل لگی جہچے شادمانی
ہمیشہ حسینوں سے آنکھیں لڑانی
سدا کامیابی سدا کامرانی
بہت یاد آتی ہے باتیں پرانی
وہ چہرے پہ تابش لبوں پر تبسم
وہ آنکھوں ہی آنکھوں میں شوق ۓ تکلم
وہ سینے میں ہلچل وہ دل میں تلاطم
نظر میں ترانے لہو میں ترنم
وہ رگ رگ میں دوڑتی زندگانی
بہت یاد آتی ہے باتیں پرانی
وہ دن رات کوۓ نگاراں کے پھیرے
وہ رنگین کوٹھے وہ ڈیرے
وہ کمرے فروزاں وہ زینے اندھیرے
وہ زلفوں کے حلقے وہ بانہوں کے گھیرے
وہیں مدتوں جا کے راتیں بتانی
بہت یاد آتی ہے باتیں پرانی
وہ خوش پوش زہرہ جبینوں کے پلے
بنارس کی ساڑھی زرتار پلے
ورقدار بیڑوں سے ابھرے وہ کلے
وہ چوڑی کے ٹکڑے وہ چاندی کی چھلے
جو ملتے تھے ہم کو بطور ۓ نشانی
بہت یاد آتی ہے باتیں پرانی
وہ دلبر کہ جن پر فدا لاکھ جانیں
وہ سینے کی ابھری نوکیلی کمانیں
وہ آواز اتریں دلوں میں سنانیں
وہ بین کے توڑے نذیرن کی تانیں
غزل جب سنانی ہماری سنانی
بہت یاد آتی ہے باتیں پرانی
عداوت تھی ان پاکبازوں سے ہم کو
جو بس جھانکتی تھی درازوں سے ہم کو
رہا سابقہ دل نوازوں سے ہم کو
لبھاتی رہیں اپنے نازوں سے ہم کو
ہم ان پر دیوانے وہ ہم پر دیوانی
بہت یاد آتی ہے باتیں پرانی
وہ گرمی کی راتیں وہ سرشار گھڑیاں
وہ پچھلے پہر عیش و عشرت کی جھڑیاں
دوپٹے پہ گوٹے کی آڑی وہ چھڑیاں
وہ چوٹی میں لپٹی چنبیلی کی لڑیاں
وہ آنگن میں مہکی ہوئی رات کی رانی
بہت یاد آتی ہے باتیں پرانی
چھریرے بدن وہ ہوا میں لہکتے
گلے میں وہ بیلے کے کنٹھے مہکتے
وہ آنچل ڈھلکتے وہ عارض دہکتے
وہ عالم کہ ہم بن پۓ بھی بہکتے
بہکنے کی ان سے سزائیں بھی پانی
بہت یاد آتی ہے باتیں پرانی
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
0 Responses to “Agar Poochta Hai To Sun Yaar Jaani Humari Jawani Bhi Kia Thi Jawani”
Post a Comment