Saturday, 13 February 2016
Mayosi Par Bhi Dunya Ka Koi Roop Sa Charrta Jata Hai
مایوسی پر بهی دنیا کا کوئی
روپ سا چڑهتا جاتا ہے
میں موت تقاضا کرتا ہوں
میرا جیون بڑهتا جاتا ہے
میرے جزبے پهبتی کستے ہیں
میرا یار بهی نالاں رہتا ہے
میری آس کی ٹوٹی تسبیح کا
ہر دانہ مرتا جاتا ہے
میرا رشتہ سنگت_وجداں میں
معراج کی حد کو جا پہنچا
میں سوچتا ہوں جو رات ستم
وہ دن میں کرتا جاتا ہے
میرے دائیں فرشتے کے آنگن
کیا قحط_قلم ظہور ہوا
وہ مجھ سے ہجرت کرنے کو
خود منہ میں پڑهتا جاتا ہے
مجهے کفر کے فتوے بهینٹ کیے
کوئی کامل کافر کرنے کو
جو اٹهتا ہے وہی ایک نیا
الزام سا دهرتا جاتا ہے
اس جگ کی عنایت کے احساں
میری ذات پہ ایسے پهیل چلے
جہاں دهبہ گرتا دامن پہ
وہیں داغ سا پڑتا جاتا ہے
رزب قلم_عجز جب چلتا ہے
اشکوں کی دهارا لیتا ہے
یہ خود بینی کی ناؤ تلے
خود قلزم بنتا جاتا ہے
رچنا: رزب تبریز
Subscribe to:
Post Comments (Atom)

0 Responses to “Mayosi Par Bhi Dunya Ka Koi Roop Sa Charrta Jata Hai”
Post a Comment