Sunday, 20 September 2015
Aap Se Arz Mulaqaat Nai Baat Nahi
آپ سے عرض ملاقات ، نئی بات نہیں
ھے مرے لب پہ وھی بات ، نئی بات نہیں
دل بے تاب یہ ھلچل یہ قیامت کیسی ؟؟
آج کچھ ان سے ملاقات ، نئی بات نہیں
آپ آ جائیں تو , رِم جِھم کی صدا ناچ اُٹھے
ورنہ یہ رات یہ برسات ، نئی بات نہیں
ھے یہی فرقۂ اربابِ وفا کا مقسُوم
یہ پریشانئ حالات ، نئی بات نہیں
سیف !! اندازِ بیاں ، رنگ بدل دیتا ھے
ورنہ دنیا میں کوئی بات ، نئی بات نہیں
سیف الدین سیف
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
0 Responses to “Aap Se Arz Mulaqaat Nai Baat Nahi”
Post a Comment