Saturday, 12 September 2015
In Ki Nazar Se Jaam Peye Ja Raha Hoon Main,Sab Hasraton Ke Chaak Seene Ja Raha Hoon Main
ان کی نظر سے جام پیئے جارہا ھوں میں
سب حسرتوں کے چاک سیئے جا رہا ھوں میں
برھم مزاج-یار کبھی اس طرح نہ تھا
شاید بغیر اذن پیئے جا رہا ھوں میں
ساز-حیات جس کی نظر سے ھے نغمہ زن
ھر سانس اس کے نام کیے جا رہا ھوں میں
دل خواہشوں کا ایک صنم خانہ تھا جسے
ھر آرزو سے پاک کیے جا رہا ھوں میں
دل پہ بھی تیرا نام کندہ مگر ندیم!
یہ پارہ-جگر بھی دئیے جا رہا ھوں میں
تم دل کے بادشاہ ھو عالم گواہ ھے
کتنا بڑا ثبوت دئیے جا رہا ھوں میں
یہ ماجرا بھی قطب سمجھ میں نہ آسکا
ان کے بغیر کیسے جیئے جا رہا ھوں میں
شاعر (خواجہ غلام قطب الدین فریدی)
کتاب ( بیتابی )
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
0 Responses to “In Ki Nazar Se Jaam Peye Ja Raha Hoon Main,Sab Hasraton Ke Chaak Seene Ja Raha Hoon Main”
Post a Comment