Monday, 19 October 2015

Wo Khud Aansoo Bahaaye Ga Zara Tum Mar To Jane Do Mujhe Wapas Bulaaye Ga Zara Tum Mar To Jane Do



وہ خود آنسو بہائے گا ذرا تم مر تو جانے دو

 مجھے واپس بلائے گا ذرا تم مر تو جانے دو

میں تیرا تھا میں تیرا ہوں ترا تاعمر رہنا ہے

 بڑی قسمیں وہ کھائے گا ذرا تم مر تو جانے دو

وہ جن باتوں پہ ہنستا ہے مجھے دیوانہ کہہ کہہ کر

 وہ سب باتیں بتائے گا ذرا تم مر تو جانے دو

اگر میں زندہ رہتا تو مجھے وہ خوش بہت رکھتا

 یہ سب سے کہتا جائے گا ذرا تم مر تو جانے دو

جسے فرصت نہیں فرصت میں مجھ کو یاد کرنے کی

 نہ مجھ کو بھول پائے گا ذرا تم مر تو جانے دو

جو اب تنقید کرتا ہے مری شاعر مزاجی پر

 غزل میری سنائے گا ذرا تم مر تو جانے دو

ابھی تو روٹھ کر مجھ سے وہ میلوں دور بیٹھا ہے

 مجھے آکر منائے گا ذرا تم مر تو جانے دو

جسے پاگل وہ کہتا ہے وہی پاگل اسے اک دن

 مبشر یاد آئے گا ذرا تم مر تو جانے دو

 

0 Responses to “Wo Khud Aansoo Bahaaye Ga Zara Tum Mar To Jane Do Mujhe Wapas Bulaaye Ga Zara Tum Mar To Jane Do”

Post a Comment