Thursday, 17 December 2015
Hijar Ki Bad-Dua Na Ho Jana,Dekh Lena Saza Na Ho Jana
شاعرہ نوشی گیلانی
انتخاب عرو سہ ایمان
ہجر کی بد دعا نہ ہو جانا.
دیکھ لینا سزا نہ ہو جانا
موڑ تو بے شمار آئیں گے.
تھک نہ جانا جدا نہ ہو جانا
عشق کی انتہا نہیں ہوتی.
عشق کی انتہا نہ ہو جانا
آخر شب اداس چاند کے ساتھ.
ایک بجھتا دیا نہ ہو جانا
بے اراداہ سفر پہ نکلے ہو.
راستوں کی ہوا نہ ہو جانا
زندگی درد سے عبارت ہے.
زندگی سے خفا نہ ہو جانا
اک تمہیں کو خدا سے مانگا ہے
تم کہیں بے وفا نہ ہو جانا
.
محبتیں جب شمار کرنا
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
0 Responses to “Hijar Ki Bad-Dua Na Ho Jana,Dekh Lena Saza Na Ho Jana”
Post a Comment