Monday, 7 December 2015
Mere Bachpan Ka December
میرے بچپن کا دسمبر
میرے بچپن کا دسمبر یاد آتا ہے مجھے
جب سخت سردی میں ھم نہاتے تھے بارش میں
جب مجھے محبت ہوگئ تھی تم سے
جب نہ تھا ہمیں زمانے کا ڈر
جب ہم سر عام ملتے تھے ایک دوسرے سے
وہ میر ے بچپن کا د سمبر یاد آتا ہے مجھے
جب میں سویا تھا تمہاری آغوش میں
وہ تھی میرے بچپن کے دسمبر کی پہلی شب
جب ہم ہوئے تھے ایک جسم
نہ کوئ رنجش تھی ہمارے درمیاں
نہ کوئ شکایت تھی ہم دونوں میں
وہ میرے بچپن کا دسمبر کتنا اچھا تھا
چلو لوٹ چلے پھر اسی دسمبر میں
اک بار پھر کر لے اک دوسرے سے محبت ہم
کہ لوٹ آیا ہے وہ بچپن کا دسمبر
میرے بچپن کا دسمبر یاد آتا ہے مجھے
جب سخت سردی میں ھم نہاتے تھے بارش میں
جب مجھے محبت ہوگئ تھی تم سے
جب نہ تھا ہمیں زمانے کا ڈر
جب ہم سر عام ملتے تھے ایک دوسرے سے
وہ میر ے بچپن کا د سمبر یاد آتا ہے مجھے
جب میں سویا تھا تمہاری آغوش میں
وہ تھی میرے بچپن کے دسمبر کی پہلی شب
جب ہم ہوئے تھے ایک جسم
نہ کوئ رنجش تھی ہمارے درمیاں
نہ کوئ شکایت تھی ہم دونوں میں
وہ میرے بچپن کا دسمبر کتنا اچھا تھا
چلو لوٹ چلے پھر اسی دسمبر میں
اک بار پھر کر لے اک دوسرے سے محبت ہم
کہ لوٹ آیا ہے وہ بچپن کا دسمبر
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
0 Responses to “Mere Bachpan Ka December”
Post a Comment