Monday, 25 January 2016

Dil Ke Arman Marte Marte Jate Hain,Sab Gharonde Bikharte Jate Hain



دل کے ارمان مرتے مرتے جاتے ہیں

سب گھروندے بکھرتے جاتے ہیں

محملِ صبحِ تو کب آئیگی

کتنے ہی دن گزرتے جاتے ہیں

مسکراتے ضرور ہیں لیکن

زیرِ لب آہ بھرتے جاتے ہیں

تھی کبھی کوہ کن میری شیریں

اب تو آدابِ برتے جاتے ہیں

بڑھتا جاتا ہے کاروانِ حیات

ہم اسے یاد کرتے جاتے ہیں

شہر آباد کر کے شہر کے لوگ

اپنے اندر بکھرتے جاتے ہیں

جون یہ زخم کتنا کاری ہے

یعنی کچھ زخم بھرتے جاتے ہیں

جون ایلیا

 

0 Responses to “Dil Ke Arman Marte Marte Jate Hain,Sab Gharonde Bikharte Jate Hain”

Post a Comment