Saturday, 23 January 2016
Hum Saari Larkiyaan Hum Saari Titliyaan (Pagal Larkiyaan) Poetry
ہم پاگل لڑکیاں
شاعرہ نجمہ شاہین کھوسہ
بوک میں آنکھیں بند رکھتی ہوں
صفحہ 244 245
انتخاب اجڑا دل
ہم ساری لڑکیاں
ہم ساری تتلیاں
اپنے اپنے قبیلے سے جدا
اپنے اپنے گھونسلوں سے خفا
وقت کے آئینے میں
دلوں میں بے رنگ خواب سجاۓ
نینوں میں دکھ کے موتی چھپاۓ
منزلیں تلاشتی پھر رہی ہیں
خود کو خود میں ڈھونڈ رہی ہیں
کبھی منزلیں ہمیں ملتی نہیں
اور کبھی منزلوں کے قابل ہم نہیں
پھر بھی جستجوۓ ذات میں
خود کو تلاشتی پھر رہی ہیں
ہم ساری لڑکیاں
ہم ساری تتلیاں
ہم سورج کی رو پہلی کرنوں میں
اپنا ستارہ ڈھونڈ رہی ہیں
بہتے ساگر کی موج میں
اپنا کنارہ ڈھونڈ رہی ہیں
غموں کے ہم طوفان اٹھاۓ
ہونٹوں پہ مسکان سجاۓ
اپنی ہستی کھوج رہی ہیں
خود کو خود میں ڈھونڈ رہی ہیں
ہم پاگل لڑکیاں
ہم اڑتی تتلیاں
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
0 Responses to “Hum Saari Larkiyaan Hum Saari Titliyaan (Pagal Larkiyaan) Poetry”
Post a Comment